ڈِکی برڈ…دنیائے کرکٹ کا معتبر ترین امپائر

انگلستان میں موسم گرما کی روشن دوپہر، آسمان پر بادلوں کی باریک تہہ، کرکٹ اسٹیڈیم میں پولین کی عمارت پر خاموش گھڑی جو میدان کرکٹ میں برپاہونے والے دلچسپ معرکوں کا گواہ ہے۔ بالرز اینڈ پر سفید کوٹ میں ملبوس امپائر اپنی مخصوص Flat Cap اور انداز کی وجہ سے دور سے پہچانا جاتا ہے۔

اس کے روئیے اور محکم فیصلوں نے غیر معمولی شہرت عطا کی ہے اور اس کی اُٹھی ہوئی اُنگلی پر آؤٹ ہونیوالے کھلاڑی بھی یقین کرتے ہیں! یہ منظر صرف کھیل نہیں بلکہ تہذیب کا وہ استعارہ ہے، جس کی بنیاد اصول، وقار، برداشت اور سچ کی روایت ہے اور یہ روایت جس نام سے بندھی رہتی ہے، وہ ہے ڈِکی برڈ۔ جی ہاں! دنیائے کرکٹ کا وہ معتبر ترین انگریز امپائر، جس نے کرکٹ کی روح کو کبھی داغدار نہیں ہونے دیا اور جن کے فیصلوں نے کھیل کے ادب و آداب کو ایک نئے وقار سے آشنا کیا یہ تحریر اسی رجحان ساز شخصیت کی زندگی کی کہانی ہے۔

1933ء کے اپریل کی اک صبح، برطانوی کاؤنٹی یارکشائر کے صنعتی و مزدور شہر بارنزلے میں جنم لینے والے اس لڑکے کی آنکھ کھلی تو سامنے محنت کشوں کی دنیا تھی، کوئلے کی کانیں، فیکٹریوں کی سیٹیاں، چھوٹے گھروں کی بڑی امیدیں اور انہی میں شامل ڈکی برڈ، جس کی آنکھ آسمان کی بلندیوں کو چیلنج کر رہی تھی۔

برطانیہ کی شمالی زمینوں میں فٹ بال اور کرکٹ کھیل کے دو بڑے جنون تھے، اور ڈِکی ان دونوں کے دیوانے نکلے، انہوں نے جوانی میں فٹ بال سے شروعات کی اور وہ بارنزلے کلب کے فائنل ٹرائلز تک پہنچ گئے لیکن پھر اچانک گھٹنے کی انجری نے فٹ بال کے دروازے ان پر ہمیشہ کے لئے بند کر دئے، یہ وہ موڑ تھا جہاں قسمت نے انہیں میدان سے کنارے کی طرف دھکیلا، مگر انہی قدموں نے بعدازاں دنیا کے بڑے بڑے میدانوں کے بیچوں بیچ انہیں فخر کے ساتھ سفید کوٹ پہنے کھڑا کر دیا۔

کرکٹ سے محبت انہیں کلب کرکٹ تک لائی اور انہوں نے بارنزلے کرکٹ کلب میں شمولیت اختیار کر لی، جہاں انہیں وقت کے بڑے کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنے کا موقع ملا، کھلاڑی کے طور پر ڈِکی نے بیٹنگ میں ہاتھ آزمائے، مگر ان کی اصل پہچان وہ نہ بن سکی جو قسمت نے ان کے لیے سنبھال رکھی تھی، کیوں کہ یہاں بھی ان کی بہت زیادہ دال نہ گل سکی لیکن کھیل سے رشتہ ٹوٹنے نہ دینے کے عزم نے انہیں امپائرنگ کی طرف مائل کیا۔

1970ء کی دہائی کی ابتدا میں انہوں نے پیشہ ور امپائر کے طور پر اپنے سفر کا آغاز کیا، اور محض چند برسوں میں برطانیہ ہی نہیں، بلکہ کرکٹ کی پوری دنیا نے اس خاموش مزاج، نرم لہجے اور بے لچک کی دیانت رکھنے والے شخص کو پہچان لیا۔ 1973ء میں ہیڈنگلے، لیڈز میں انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے مابین پہلا ٹیسٹ ان کا امپائرنگ ڈیبیو تھا اور یہی آغاز آنے والے چوبیس برس میں ایک ایسے ریکارڈ میں ڈھلا جس نے انہیں دنیا کا ’’معتبر ترین امپائر‘‘ بنا دیا۔ ڈِکی برڈ کی امپائرنگ کا حسن ان کے اندازِ نظر میں تھا، وہ فیصلے جلدی نہیں دیتے تھے، اور نہ ہی جذبات کی لہروں میں کسی جانب جھکتے تھے۔

امپائرنگ میں ان کا اصول سادہ تھا کہ پہلے آنکھ دیکھے، پھر دل گواہی دے اور آخر میں انگلی اٹھے۔ انہی صفات نے ڈریسنگ رومز کے بڑے بڑے ناموں جیسے ویوین رچرڈز، عمران خان، ایان بوتھم اور کپل دیو سمیت سب کو ان کا معترف بنایا۔ کھلاڑی جانتے تھے کہ ڈِکی کے سامنے مکاری نہیں چلتی، وہ مسکراہٹ سے تلخی کو پگھلا دیتے ہیں اور ایک آدھ ہلکے جملے سے دباؤ کے پہاڑ کو اُڑا کے رکھ دیتے ہیں۔ میدان میں ان کی موجودگی مزاح اور متانت کا ایسا امتزاج تھی کہ دیکھنے والا بھی کھیل کا لطف دوچند محسوس کرتا۔ بارش، روشنی، یا پچ کی حالت، ڈِکی برڈ ان معاملات میں خاص طور پر محتاط تھے۔

انگلینڈ کی بدلتی فضا میں وہ کھیل کی حفاظت کو اولیت دیتے، ان کا یہ جملہ بہت مشہور ہوا تھا کہ ’’کھلاڑی اچھے حالات کے مستحق ہیں، اور ناظرین ایک صاف کھیل کے‘‘ یہی وجہ تھی کہ وہ کم روشنی میں کھیل رکوا دیتے یا بارش کی ٹھیک ٹھاک بوندوں پر اننگز موقوف کروا دیتے۔ کچھ لوگوں کو یہ احتیاط پسندی سختی محسوس ہوتی، مگر وقت نے ثابت کیا کہ ان کی کڑی نظر نے کئی بڑے کھلاڑیوں کو انجری سے بچایا اور کئی میچ غلط فیصلوں سے محفوظ رہے۔

وہ قانون سے کھیل کی روح ادھار لیتے، اور روح سے قانون کو معنی دیتے۔ 1975ء، 1979ء اور 1983ء کے کرکٹ ورلڈ کپ فائنلز ڈِکی برڈ کی میدان میں موجودگی کی وجہ سے یادگار رہے، لارڈز کے تاریخی میدان پر جب دنیا نے ایک روزہ کرکٹ کو عالمی تقدیس پاتے دیکھا تو اس منظر میں ڈِکی کی موجودگی ایک خاموش مگر سلجھی ہوئی ضمانت تھی کہ میدان میں انصاف کا سایہ موجود ہے۔ ماضی کے ٹی وی فوٹیج میں جب کیمرہ انہیں کیپ کے کنارے کو نرمی سے تھپتھپاتے، کھلاڑی سے دو قدم دور رک کر نرمی سے بات کرتے یا فیصلہ سناتے ہوئے دکھاتا ہے تو سمجھ آتا ہے کہ امپائرنگ محض ہاتھ اٹھانے کا عمل نہیں بلکہ اعتماد اور کردار کی ایک مستقل ریاضت ہے۔

ڈِکی برڈ کے اعدادوشمار خود اپنے حق میں گواہ ہیں، مگر شاید ان کا سب سے بڑا لمحہ وہ تھا جب 1996ء میں لارڈز کے میدان پر انہوں نے آخری ٹیسٹ میں قدم رکھا اور کھلاڑیوں نے انہیں گارڈ آف آنر دیا۔ میدان میں داخل ہوتے ہوئے ان کی آنکھوں میں آنسو تھے اور تماشائیوں نے کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں۔ یہ احترام کسی عہدے، کسی ضابطے، کسی منصب سے نہیں ملتابلکہ کردار سے ملتا ہے۔

میدان نے جس شخص کو رخصت کیا وہ اپنے پیچھے ایک روایت چھوڑ گیا اور وہ تھی ’’فیصلے کی شفافیت اور انسان کی عزت‘‘۔ امپائرنگ کے فوراً بعد ڈِکی نے خود کو کھیل کی خدمت کے دوسرے میدانوں میں مصروف کرلیا۔ 1997ء میں ان کی خود نوشت ’’ڈِکی برڈ: مائی آٹو بایوگرافی‘‘ شائع ہوئی تو انگلستان میں اسپورٹس لٹریچر کی دنیا میں دھوم مچ گئی۔ یہ کتاب ایک ملین سے زیادہ نسخوں کے ساتھ برطانیہ کی تاریخ کی کامیاب ترین اسپورٹس آٹو بایوگرافیوں میں شمار ہوئی۔

اس میں انہوں نے بچپن کی محرومیوں، جوانی کی انجری، اپنے کھیل کا دور، اور میدان میں فیصلے کے تنہائی بھرے لمحات کو ایک سادگی اور بے ساختگی کے ساتھ ایسے ذکر کیا کہ قاری سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ یہ کتاب محض یادداشت نہیں بلکہ کرکٹ کے تہذیبی مزاج کی ایک خاموش دستاویز ہے۔ انہوں نے مزید تحریروں اور گفتگوؤں میں بارہا اس بات پر زور دیا کہ ٹیکنالوجی کی مدد  (جیسا کہ جدید ڈی آر ایس وغیرہ) اچھی سہی، مگر کھیل کا دل انسانی فیصلہ اور باہمی اعتماد ہی ہے، ان کے مطابق ٹیکنالوجی سہارا ہے، متبادل نہیں۔

ان خدمات کا صرف عوامی نہیں بلکہ سرکاری سطح پر بھی بارہا اعتراف کیا گیا۔ 2012ء کے نیو ایئر آنرز میں کرکٹ اور فلاحی کاموں کے اعتراف میں ڈِکی برڈ کو او بی ای (آرڈر آف دی برٹش ایمپائر) عطا کیا گیا۔ ان کے وطن بارنزلے نے 2009ء میں ٹاؤن ہال کے سامنے ان کا مجسمہ نصب کیا، یہ اعزاز صرف ایک سپورٹس مین کے لیے نہیں، ایک کردار کے لیے تھا۔ بعدازاں انہیں شہری اعزاز (فریڈم آف بارنزلے) سے بھی نوازا گیا۔ وہ یارکشائر کاؤنٹی کرکٹ کلب سے اپنی محبت نبھاتے رہے تو 2014ء میں کلب نے انہیں صدر منتخب کر لیا، یہ منصب زیادہ تر اعزازی ہوتا ہے، مگر ڈِکی نے اسے نوجوان کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی اور کلب کے وقار کی نمائندگی میں بھرپور طریقے سے استعمال کیا۔

بارنزلے فرسٹ کلاس کے لیے ان کا جنون بھی مشہور ہے، اکثر عوامی تقریبات میں وہ اپنے شہر کی ٹیم کے کھلاڑیوں کی ٹائی باندھے دکھائی دیتے۔ فلاحی میدان میں ’’دی ڈِکی برڈ فاؤنڈیشن‘‘ ان کی دور اندیشی کی عکاس ہے۔ بچوں اور نوعمر کھلاڑیوں کے لیے بنیادی کھیل ساز و سامان تک رسائی ایک بڑا مسئلہ ہوتی ہے اور انہوں نے اسی خلا کو پْر کرنے کا بیڑہ اٹھایا۔ فاؤنڈیشن ایسے بچوں کو مختصر گرانٹس دیتی، جو مالی دشواری کے باعث کھیل چھوڑ دینے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔ اس سادہ سے خیال نے درجنوں نہیں، سینکڑوں گھرانوں کے خوابوں کو حوصلہ دیا۔ ڈِکی کا ماننا ہے کہ کھیل صرف میدان تک محدود تجربہ نہیں بلکہ یہ زندگی کے اصول سکھاتا ہے، وقت کی پابندی، احترام، محنت اور خود اعتمادی دیتا ہے، جو بچے کھیل پاتے ہیں وہ زندگی کی سختیوں سے بہتر نبرد آزما ہوتے ہیں اور یہی ان کی فاؤنڈیشن کا فلسفہ ہے۔

دوسری طرف ڈِکی برڈ کی شخصیت میں ایک دلچسپ تضاد بھی ہمیشہ جھلکتا رہا، وہ ایک طرف قانون کے غیر متزلزل محافظ تھے، دوسری طرف کھلاڑیوں کی انسانی کمزوریوں کے لیے نرم دل، یہی وجہ تھی کہ ان کے فیصلے سخت ہوتے ہوئے بھی کڑواہٹ پیدا نہیں کرتے تھے، وہ اکثر مزاح کے ذریعے تناؤ ٹال دیتے، کسی تیز گیند باز کو نرمی سے کہتے ’’ذرا لائن یاد رکھیے، دوسرا اینڈ سمندر نہیں‘‘ یا کسی بیٹسمین کو مسکرا کر یاد دلاتے ’’بال کو دھیان سے دیکھئے، یہ شادی نہیں جو اندھا دھند ہو جائے‘‘ اس طرح کے بے ضرر جملے نہ صرف ماحول ہلکا کرتے بلکہ یہ تاثر بھی دیتے کہ امپائر کھیل کا دشمن نہیں، محافظ ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.