اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات کا چھٹا اجلاس منگل کو یہاں پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت سید عبدالقادر گیلانی نے کی۔ اجلاس کے دوران کمیٹی کو پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے سکیورٹی اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ جنوری سے اکتوبر 2024 کے دوران 7,984 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) کئے گئے جن کے نتیجے میں 206 دہشت گرد ہلاک اور 1,312 گرفتار کئے گئے۔
کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ ہر منصوبے کی لاگت کا 1 فیصد حصہ سکیورٹی کے لئے مختص کیا گیا ہے۔کمیٹی نے سی پیک کی سکیورٹی کے حوالے سے پاکستان اور چین کے درمیان جاری تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
اجلاس کے دوران کمیٹی کو مزید یہ بتایا گیا کہ پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کا کام زیادہ تر مکمل ہو چکا ہے اور سرحد پار سے دراندازی کو روکنے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں تاہم خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع اور بلوچستان کے علاقے لکی مروت میں سرحد پار حملوں کے واقعات بدستور ایک چیلنج ہیں۔
کمیٹی نے سی پیک سکیورٹی آپریشنز کے دوران ہونے والے جانی نقصان کے معاوضہ کے مسئلہ کا بھی جائزہ لیا اور نیکٹا سے جامع بریفنگ کی ضرورت پر زور دیا تاکہ سکیورٹی سے متعلق مسائل کو حل کیا جا سکے۔ اجلاس کے دوران غیر متعلقہ چینی باشندوں کے حوالے سے بھی خدشات کا اظہار کیا گیا جو سی پیک منصوبوں سے براہ راست وابستہ نہیں ہیں اور مقررہ راستوں سے ہٹ کر سفر کرتے ہیں، جس سے ان کی سلامتی کو ممکنہ خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
کمیٹی نے دو ایجنڈا آئٹمز متعلقہ حکام کی غیر موجودگی کی وجہ سے ملتوی کر دیے۔ چھوٹے ڈیموں پر بحث اس وقت مؤخر کر دی گئی جب وزارت آبی وسائل کے سیکرٹری موجود نہیں تھے جبکہ اسلام آباد ماسٹر پلان اور دارالحکومت کے بنیادی ڈھانچے اور ٹرانسپورٹیشن پر غور اس وقت تک ملتوی کر دیا گیا جب تک کہ چیئرمین کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے ) دستیاب نہ ہوں۔
کمیٹی نے متفقہ طور پر سفارش کی کہ فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی) اور دیگر سکیورٹی اہلکاروں، جیسے رینجرز، کو دیگر فورسز کے برابر معاوضہ اور الاؤنس دیا جائے تاکہ ان کے اہم کردار کو تسلیم کیا جا سکے۔ قائمہ کمیٹی نے قومی مفادات کے تحفظ اور سی پیک فریم ورک کے تحت تمام ترقیاتی منصوبوں کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔اجلاس میں اراکین قومی اسمبلی میجر (ر) طاہر اقبال، داؤر خان کنڈی، فرحان چشتی، محمد عثمان اویسی اور ذوالفقار ستار بچانی نے شرکت کی۔ اجلاس میں وزارت منصوبہ بندی و ترقی، سی ڈی اے اور وزارت داخلہ کے سینئر حکام بھی موجود تھے۔