پاکستان اور چین نے زراعت‘ صنعت‘ صحت‘ تجارت‘ کان کنی اور معدنیات سمیت متعدد شعبوں میں بی ٹو بی تعاون بڑھانے کے لئے ساڑھے آٹھ ارب ڈالر مالیت کی مفاہمت کی کئی یادداشتوں اور مشترکہ منصوبوں پر دستخط کیے ہیں۔ وزیراعظم شہبازشریف نے بیجنگ میں دستخط کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسے معاشی ترقی کے لئے لانگ مارچ قرار دیا جو بیجنگ سے شروع ہوکر اسلام آباد پر ختم ہوگا۔
انہوں نے زراعت کو پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے چینی کمپنیوں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ اس شعبے کی ترقی کے لئے اپنے تجربات اور صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے پاکستان میں سرمایہ کاری کریں۔
وزیراعظم نے کہا کہ خصوصی اقتصادی زونز کو سی پیک ٹو میں ستون کی حیثیت حاصل ہے اور چینی صنعت کو سستی اور ہنرمند افرادی قوت سے استفادے کے لئے پاکستان منتقل کیا جاسکتا ہے انہوں نے کہا کہ چینی تاجر اس موقع کو چین اور پاکستان کے درمیان مفید شراکت داری میں تبدیل کرسکتے ہیں۔ شہبازشریف نے یقین دلایا کہ پاکستان میں چینی باشندوں کا تحفظ انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور اس حوالے سے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں گے۔