چین کے شی چھانگ سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے کوائی زو-1 اے لانچ راکٹ کے ذریعے پاکستان کا ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ کامیابی سے خلاء میں پہنچ گیا جس سے پاکستان اور چین کے مابین خلائی تعاون کی تاریخ میں ایک اور شاندار باب کا اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس پیش رفت کو نہ صرف پاکستان اور چین کے مابین سٹریٹجک شراکت داری کا مظہر قرار دیا جا رہا ہے بلکہ یہ خطے میں سائنسی، اقتصادی اور دفاعی میدانوں میں ایک انقلابی پیش رفت کی بنیاد بھی بنے گی۔چینی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ زمین کی سطح، ماحول، قدرتی وسائل، شہری ترقی اور زرعی زمینوں کی نگرانی کے لیے جدید سینسرز سے لیس ہوتا ہے۔
سیٹلائٹ پاکستان کے زمینی خدوخال، شہری توسیع، زراعت اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے درست اور بروقت تجزیے کے لیے کلیدی کردار ادا کرے گا۔زرعی میدان میں یہ سیٹلائٹ فصلوں کی نگرانی اور زمین کے موثر استعمال میں مدد دے گا جبکہ شہری منصوبہ بندی، قدرتی آفات کے خطرات کی پیشگی اطلاع اور ماحولیاتی تبدیلیوں پر نظر رکھنے کے لیے بھی یہ ایک موثر آلہ ثابت ہوگا۔
خاص طور پر سیلاب، زلزلے اور لینڈ سلائیڈنگ جیسے خطرات کے تناظر میں عوامی تحفظ کے لیے بروقت معلومات فراہم کرے گا۔دفاعی اور قومی سلامتی کے شعبے میں بھی اس سیٹلائٹ کی اہمیت نمایاں ہے۔ یہ سیٹلائٹ جنگی حالات، اہداف کی نگرانی اور انٹیلی جنس معلومات کے حصول میں مدد دے گا جس سے پاکستان کی دفاعی صلاحیت اور سٹریٹجک خودمختاری میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔
موجودہ جغرافیائی سیاسی ماحول، خصوصاً جنوبی ایشیائی تناظر میں یہ ٹیکنالوجی پاکستان کو خلائی انٹیلیجنس کے شعبے میں مزید خودمختار بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔کوائی زو-1 اے لانچ راکٹ کی بات کی جائے تو یہ اپنے چھوٹے حجم اور تیز تیاری کی صلاحیت کے باوجود فوری لانچنگ ضروریات کے لیے انتہائی موزوں ہے۔
یہ راکٹ کم لاگت، درست مدار اور مختصر تیاری کے وقت کی بدولت عالمی خلائی صنعت میں اپنی ایک خاص پہچان رکھتا ہے۔یہ کامیاب لانچ چین اور پاکستان کے درمیان پائے جانے والے گہرے دوستانہ تعلقات اور سٹریٹجک اعتماد کی مظہر ہے۔ خلائی ٹیکنالوجی کے حساس اور پیچیدہ شعبے میں چین کا پاکستان کو یہ تعاون فراہم کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ دونوں ممالک ہر میدان میں ایک دوسرے کے قریبی شراکت دار ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر یہ پیش رفت ایک منصفانہ اور شراکتی عالمی خلائی نظام کی تشکیل میں بھی مددگار ثابت ہوگی۔ اس سے دیگر ترقی پذیر ممالک کو بھی یہ پیغام ملتا ہے کہ باہمی تعاون کے ذریعے جدید ٹیکنالوجی تک رسائی ممکن ہے۔پاکستان اور چین کے مابین یہ خلائی اشتراک نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان سٹریٹجک تعلقات کو مزید وسعت دے گا، بلکہ یہ خطے میں امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے بھی ایک مثبت علامت ہے