وفاقی وزیر منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال کی زیر صدارت اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں چینی ماہرین کی رپورٹ کی روشنی میں مختلف شعبوں کے لیے عملی منصوبے کو حتمی شکل دینے اور اس پر عمل درآمد کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سیکرٹری منصوبہ بندی اویس منظور سمرا، وائس چانسلر پائیڈ، چیف اکانومسٹ، ڈائریکٹر سی پیک سیکرٹریٹ اور دیگر اہم وزارتوں و محکموں کے سینئر حکام نے شرکت کی۔
چینی سفارتخانے کی جانب سے موصول ہونے والی یہ رپورٹ چین کے ماہرین کی ٹیموں نے پاکستان کے دورے کے بعد تیار کی تھی جس میں دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعاون بڑھانے کے ممکنہ شعبوں کا جائزہ اور تجاویز دی گئی تھیں۔
رپورٹ میں رابطہ سازی، قومی زرعی منصوبہ، گوادر پورٹ سے منسلک منصوبے، آئی ٹی تعاون اور دیگر اہم شعبوں میں سفارشات پیش کی گئی ہیں۔
اس مقصد کے لیے تمام وزارتوں سے کہا گیا کہ وہ رپورٹ کا تفصیلی جائزہ لے کر اپنی رائے اور تجاویز پیش کریں۔وزیرِاعظم محمد شہباز شریف کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے وزارتِ منصوبہ بندی نے 10 وفاقی فوکل گروپس تشکیل دیے تاکہ چینی ماہرین کی تکنیکی تجاویز کی بنیاد پر شعبہ وار عملی منصوبے تیار کیے جا سکیں۔ اس دوران وزیر احسن اقبال کی قیادت میں متعدد اجلاس منعقد ہوئے جن میں وزارتوں کو ہدایت دی گئی کہ وہ اپنی تجاویز کو چینی سفارشات سے ہم آہنگ کر کے ایک واضح لائحہ عمل تیار کریں۔
اجلاس میں متعلقہ وزارتوں نے چینی ٹیموں کی سفارشات پر پیش رفت اور اپنے منصوبوں کی تفصیلات پیش کیں۔ اس موقع پر احسن اقبال نے ہدایت دی کہ ہر وزارت چینی رپورٹ کی بنیاد پر جامع جواب تیار کرے تاکہ سی پیک سیکرٹریٹ ایک مربوط اور مفصل جواب چینی فریق کو بھجوا سکے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ چین کو باقاعدہ طور پر آگاہ کیا جائے کہ پاکستان نے ان سفارشات پر کیا پیش رفت کی ہے اور ان شعبوں پر تیزی سے کام کیا جائے جن میں چین پہلے ہی تعاون پر آمادگی ظاہر کر چکا ہے۔۔