عالمی یوم حجاب کے موقع پر حلقہ خواتین جماعت اسلامی اسلام آباد اور دیگر خواتین کا اظہار خیال

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) چار ستمبر کو پوری دنیا میں عالمی یوم حجاب اس عزم کے طور پر منایا جاتا ہے کہ مسلم خواتین کے بنیادی حق پردے اور حجاب پر پابندی یا قدغن نا قابل برداشت ہے۔یہ دن منانے کا مقصد یہ ہےکہ معاشرہ ان خواتین کے ساتھ اظہار یک جہتی کرے جو حجاب کے ساتھ زندگی کے ہر شعبہ میں اعتماد اور با وقار انداز میں کام کرنا چاہتی ہیں۔یہ جدوجہد 2004 میں حجاب پر پابندی کے بعد منظم انداز میں شروع ہوئ۔یہ دن پوری دنیا میں ان خواتین کے نام ہے جو حجاب کے ساتھ فخر اور تحفظ محسوس کرتے ہوئے اگے بڑھنا چاہتی ہیں۔حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان ہر سال مختلف سلوگنز کے ساتھ اس دن کو منانے کا اہتمام کرتی ہے۔اس سال کا سلوگن ہے ‘تحفظ خواتین کا بنیادی حق”۔اس موقع پر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی خواتین سے گفتگو پیش خدمت ہے

اخبار کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے حلقہ خواتین جماعت اسلامی اسلام آباد کی ناظمہ قدسیہ ناموس اور دیگر خواتین نے کہا کہ حجاب عورت کا بنیادی حق ہے اور اس پر پابندی دراصل عورت کو اس کی شناخت سے محروم کرنے کی کوشش ہے۔ شرکاء نے واضح کیا کہ آزادی کے نام پر عورت کو مزید جکڑنے کی سازش کی جا رہی ہے۔

قدسیہ ناموس (ناظمہ حلقہ خواتین جماعت اسلامی، اسلام آباد):
“حجاب پر پابندی لگانے والے دراصل یہ ثابت کر رہے ہیں کہ مغربی آزادی ایک فریب ہے۔ عورت اپنی مرضی اور اپنے دین کے مطابق زندگی گزارنا چاہتی ہے، مگر طاقتور طبقات اس کی آزادی کو سلب کرنا چاہتے ہیں۔”

“جب عورت اپنی محنت اور صلاحیت کے ذریعے اپنی جگہ بناتی ہے تو یہی حجاب اس کی پہچان اور وقار بن جاتا ہے۔”

:عائشہ خان (معلمہ)
“جب عورت اپنی محنت اور صلاحیت کے ذریعے اپنی جگہ بناتی ہے تو یہی حجاب اس کی پہچان اور وقار بن جاتا ہے۔”

:میمونہ حمزہ (مصنفہ)
حجاب پر پابندی دراصل اسلامی ثقافت اور خاندانی اقدار کو کمزور کرنے کی سازش ہے،مغرب چاہتا ہے کہ مسلمان بھی مادر پدر آزاد ہو جائیں۔

:(عنایہ مدینہ (طالبہ
پاکستانی معاشرے میں حجاب اختیار کرنے پر مختلف طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہےکچھ اسکولوں یا کلاس فیلوز کی طرف سے غیر سنجیدہ تبصرے یا مذاق، مختلف رویّوں کی وجہ سے احساسِ کمتری یا تنہائی کا سامنا، اگر اسکول کا ڈریس کوڈ مختلف ہو تو حجاب پہننے پر اساتذہ یا انتظامیہ سے وضاحت دینی پڑ سکتی ہے، کھیلوں، سائنس لیب یا دیگر سرگرمیوں میں حجاب کے ساتھ آسانی نہ ہونا اور اس سب کی وجہ سے خوداعتمادی پر اثر پڑتا ہے جس کی تصحیح بہت ضروری ہے

:(نگینہ شاہ (طالبہ
“ہماری نوجوان نسل کو یہ باور کرانا ضروری ہے کہ حجاب آزادی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بلکہ تحفظ کا ذریعہ ہے۔ خواتین اگر اپنی پہچان پر قائم رہیں تو کوئی طاقت انہیں کمزور نہیں کر سکتی۔”

شرکاء نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ مسلمان عورت اپنی تہذیبی شناخت پر فخر کرے اور حجاب کے حق میں کھڑی ہو کر اس یلغار کو روکے۔

شازیہ ضیاء: پرنسپل نائس قرآن انسٹی ٹیوٹ اسلام آباد

قرآن مجید کی آیات سے ہی بات واضح ہو جاتی ہے کہ وہ پہچان لی جائیں اور ستائی نہ جائیں
جو عورت پردے میں مستور ہے اسکی مثال ہیرے کی طرح ہے جسکو چھپا کر رکھا جاتا ہے
اسی طرح حجاب عورت کو محفوظ بناتا ہے کہ معاشرے کی بری اور تکلیف دہ نظروں سے محفوظ رہے۔۔۔
ایوان ریڈلے غیر مسلم صحافی اپنے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنے حجاب کے بارے میںلکھتی ہیں کہ مغربی سیاستدان اور صحافی اسلام میں عورتوں پہ ظلم وستم کے بارے میں بہت لکھتے ہیں لیکن انکو اس بات کا اندازہ ہی نہیں کہ مسلم خواتین کو اسلامی سانچے یعنی حجاب کے اندر کتنی حفاظت اور عزت ملی ہے
وہ کہتی ہیں پہلے میں خود برقعے میں ملبوس خواتین کو مجبور سمجھتی تھی لیکن اب انکو بہت مضبوط سمجھتی ہوں
آئیے قرآن مجید کی تعلیمات کو اپنائیں اور پردہ جو شعائر اللہ ہے اسکو اپنی زندگی کا جزو بنائیں تاکہ معاشرے کی گندی نگاہوں سے خود کو محفوظ بنائیں
ہماری مسلم باپردہ بہنوں نے حجاب کے ساتھ جابز کیں اوریہ ثابت کیا کہ حجاب عورت کو کمزور نہیں بلکہ مضبوط و محفوظ بناتا ہے

سمیہ اعجاز: نگران ji youth islamabad
پاکستانی معاشرے میں حجاب کے فروغ کے لیے سب سے پہلے دینی اور فکری شعور بیداری ضروری ہے تاکہ حجاب کو وقار اور آزادی کے طور پر سمجھا جائے۔ خاندان میں ماؤں اور والدین کو ابتدائی تربیت میں حجاب کے تصور کو مثبت انداز میں شامل کرنا چاہیے۔ میڈیا کی طاقت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ڈراموں اور سوشل میڈیا پر حجاب کو مثبت کردار کے طور پر پیش کیا جائے۔ تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ حجاب کلچر کو سہولت دیں اور طلبہ کے لیے آگاہی سرگرمیوں کا اہتمام کریں۔ معاشرے میں حجاب کو مزید مؤثر بنانے کے لیے مختلف شعبوں میں باحجاب خواتین کو رول ماڈل کے طور پر سامنے لایا جائے۔ ساتھ ہی، قانون اور سماجی تحفظ کے ذریعے حجاب کرنے والی خواتین کے اعتماد اور عزت کو یقینی بنایا جائے

Comments (0)
Add Comment